بنگلورو،14؍جون(ایس او نیوز) چار بلز بشمول میڈیکل کورسس کی تکمیل کرنے والوں کے لئے لازمی خدمات کی تربیت کا ترمیمی بل جس کے ذریعہ کرناٹک کے کالجس سے تعلیم کی تکمیل کرنے والے تمام میڈیکل گریجویٹس کو دیہی علاقوں میں ایک سال کی خدمات لازمی قرار دی گئی ہے، توسیع شدہ بجٹ سیشن میں پیش کیا گیا۔یہ بل لازمی ہوگیا تھا کیوں کہ بیشتر ڈاکٹرس دیہی علاقوں میں خدمات انجام دینے سے انکار کررہے تھے اور اس سے طبی خدمات متاثر ہورہی تھیں۔اس ترمیم کے ذریعہ اسے لازمی قرار دیا گیا ہے کیوں کہ قبل ازیں حکومت نے اس بات کو لازمی قرار دیا تھا کہ ڈاکٹرس ' مستقل رجسٹریشن سے پہلے اپنے گریجویٹ یا پوسٹ گریجویٹ کورس کی تکمیل سے پہلے تربیت کی مدت کے دوران دیہی علاقوں میں خدمات انجام دیں۔دیگر جن بلز کو پیش کیاگیا ان میں کرناٹک اسٹیٹ سیول سرویسس (میڈیکل افسروں یا دیگر اسٹاف کے تبادلوں کو باقاعدہ بنانے سے متعلق ترمیمی بل ) بھی شامل ہے ۔اس ترمیم کے ذریعہ ایسے ملازمین جو 10یا اس سے زائد برسوں سے مخصوص علاقہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں ' کا عوامی مفاد میں تبادلہ کیا جائے گا۔کرناٹک راجیہ ڈاکٹر گنگو بائی ہنگل سنگیتا مٹھ پرادرشک کالے گالا وشوا ودیالیہ ترمیمی بل نے وائس چانسلرس کی اعظم ترین حد عمر کو 67 برس کردیاہے ۔اس کے ذریعہ کنٹرولر آف اسٹیٹ اکاونٹس ڈپارٹمنٹ کے نام کو تبدیل کرتے ہوئے میونسپل ڈائرکٹر کرناٹک اسٹیٹ آڈٹ اینڈ اکاونٹس رکھا گیا ہے ۔وزیر طبی تعلیم شرن پرکاش پاٹل نے اس بل کو پیش کرنے کے بعد یہ بات بتائی۔